محمد علوی — شاعر کی تصویر

چور ہوا — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

چور ہوا

کھڑکی کھول کے چپکے سے باہر نکلی
گلی میں مجھ کو دیکھ کے گھبرائی بھاگی
میں نے دور سے اس کا دامن تھام لیا
اس کی تلاشی لی یہ اچھا کام کیا
پڑی ہوئی تھی اس کی جیب میں مڑی تڑی
ایک نہائے جسم کی خوشبو بھینی سی

Chor Hua

Khidki khol ke chupke se bahar nikli
Gali mein mujh ko dekh ke ghabrai bhaagi
Maine door se uska daaman thaam liya
Uski talaashi li yeh achcha kaam kiya
Padi hui thi uski jaib mein mudi tudi
Ek nahaye jism ki khushboo bheeni si

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام