اب بھی تنہائی میں کبھی
دل کے سونے گوشہ میں
اک آہٹ سی ہوتی ہے
کچھ کھٹ کھٹ سی ہوتی ہے
جیسے رات گئے کوئی
بھڑے ہوئے دروازے پر
دھیرے دھیرے دستک دے
دیکھو تو کوئی نہ ملے
محمد علوی
Ab bhi tanhai mein kabhi
Dil ke soone gosha mein
Ik aahat si hoti hai
Kuchh khat khat si hoti hai
Jaise raat gaye koi
Badhe hue darwaze par
Dheere dheere dastak de
Dekho to koi na mile
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں