محمد علوی — شاعر کی تصویر

دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں

دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں
اب رات کے دریا میں پڑا ڈوب رہا ہوں
اب تک میں وہیں پر ہوں جہاں سے میں چلا ہوں
آواز کی رفتار سے کیوں بھاگ رہا ہوں
رکھتے ہو اگر آنکھ تو باہر سے نہ دیکھو
دیکھو مجھے اندر سے بہت ٹوٹ چکا ہوں
یہ سب تری مہکی ہوئی زلفوں کا کرم ہے
اک سانس میں اک عمر کے دکھ بھول گیا ہوں
تو جسم کے اندر ہے کہ باہر ہے کدھر ہے
علویؔ مری جاں کب سے تجھے ڈھونڈ رہا ہوں

Din bhar ke dahakte hue sooraj se laḍā huñ

Din bhar ke dahakte hue sooraj se laḍā huñ
Ab rāt ke daryā mein paḍā ḍoob rahā huñ
Ab tak maiñ wahīñ par huñ jahāñ se maiñ chalā huñ
Āwāz kī raftār se kyuñ bhāg rahā huñ
Rakhte ho agar ānkh to bāhar se na dekho
Dekho mujhe andar se bahut ṭooṭ chukā huñ
Yeh sab terī mahkī huī zulfon ka karam hai
Ik saañs mein ik umar ke dukh bhool gayā huñ
Tu jism ke andar hai ki bāhar hai kidhar hai
Alwi merī jaan kab se tujhe ḍhūnḍ rahā huñ

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام