کمرے کی دیوار توڑ کر میرے سامنے آیا تھا
اپنا سینہ چیر کے مجھ کو اپنا خون پلایا تھا
چمگادڑ سا اڑا کھلی کھڑکی سے باہر پہنچا تھا
آنکھ سے اوجھل ہوا نہیں اور میرے اندر پہنچا تھا
اس کے لیے میں روز رات کو خون چوس کر لاتا ہوں
محمد علوی
Kamre ki deewar tod kar mere saamne aaya tha
Apna seena cheer ke mujh ko apna khoon pilaya tha
Chamgadar sa uda khuli khidki se bahar pahuncha tha
Aankh se ojhal hua nahin aur mere andar pahuncha tha
Us ke liye main roz raat ko khoon choos kar lata hoon
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں