محمد علوی — شاعر کی تصویر

دکھ کا احساس نہ مارا جائے — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

دکھ کا احساس نہ مارا جائے

دکھ کا احساس نہ مارا جائے
آج جی کھول کے ہارا جائے
ان مکانوں میں کوئی بھوت بھی ہے
رات کے وقت پکارا جائے
سوچنے بیٹھیں تو اس دنیا میں
ایک لمحہ نہ گزارا جائے
ڈھونڈتا ہوں میں زمیں اچھی سی
یہ بدن جس میں اتارا جائے
ساتھ چلتا ہوا سایہ اپنا
ایک پتھر اسے مارا جائے
ہم یگانہ تو نہیں ہیں علویؔ
ناؤ جائے کہ کنارا جائے

Dukh ka ehsās na mārā jaaye

Dukh ka ehsās na mārā jaaye
Aaj jee khol ke haarā jaaye
In makānoñ mein koī bhūt bhi hai
Rāt ke waqt pukārā jaaye
Sochne baiṭhein to is duniyā mein
Ek lamha na guzārā jaaye
Ḍhūnḍtā huñ maiñ zamīn achhī si
Yeh badan jis mein utārā jaaye
Saath chaltā huā sāyā apnā
Ek patthar usay mārā jaaye
Hum yagāna to nahīñ hain Alwi
Nāo jaaye ki kinārā jaaye

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام