دکھ تو ہر گھر میں جاتا ہے
ہر گھر سے اس کا ناطہ ہے
ایک سے اک مل جاتا ہے تو
سکھ دیتا ہے سکھ پاتا ہے
راتوں کو دریا میں اتر کے
چاند کسے ملنے آتا ہے
چھوڑ کے اپنا عکس پرندہ
پیاس بجھا کے اڑ جاتا ہے
یہ میرا سایہ تو نہیں ہے
میرے پیچھے کیوں آتا ہے
کس کو مار رکھا ہے علویؔ
کون یہ غزلیں بھجواتا ہے
محمد علوی
Dukh to har ghar mein jata hai
Har ghar se is ka nata hai
Ek se ek mil jata hai to
Sukh deta hai sukh pata hai
Raaton ko dariya mein utar ke
Chand kise milne aata hai
Chhod ke apna aks parinda
Pyaas bujha ke ud jata hai
Ye mera saya to nahin hai
Mere pichhe kyon aata hai
Kis ko maar rakha hai Alvi
Kaun ye ghazlein bhijwata hai
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں