محمد علوی — شاعر کی تصویر

ایک بچہ — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

ایک بچہ

آج سے پہلے میرا گھر
سویا سویا رہتا تھا
سورج روز نکلتا تھا
روز سویرا ہوتا تھا
آنگن میں دیواروں پر
دھوپ چمکتی رہتی تھی
گھر کی اک اک کھڑکی میں
نور کی ندی بہتی تھی
سارا سارا دن چھت پر
کاگے شور مچاتے تھے
نل نیچے پانی پینے
روز کبوتر آتے تھے
دروازے پر دستک کی
مہریں چمکا کرتی تھیں
سرد ہوائیں پردوں میں
ٹھنڈی آہیں بھرتی ہیں
ادھر ادھر جاتی گلیاں
دھوم مچایا کرتی تھیں
ان جانے جانے بوجھے
گیت سنایا کرتی تھیں
لیکن پھر بھی میرا گھر
سویا سویا رہتا تھا!
گھر کا اک اک دروازہ
کھویا کھویا رہتا تھا!
آج مگر اک نو وارد
بچے کا رونا سن کر
چونک پڑے دیوار و در
جاگ اٹھا ہے میرا گھر

Ek Bachcha

Aaj se pehle mera ghar
Soya soya rehta tha
Suraj roz nikalta tha
Roz savera hota tha
Aangan mein deewaron par
Dhoop chamakti rehti thi
Ghar ki ik ik khidki mein
Noor ki nadi behti thi
Saara saara din chhat par
Kaage shor machate the
Nal neeche paani peene
Roz kabootar aate the
Darwaze par dastak ki
Mohrein chamak karti thin
Sard hawaain parde mein
Thandi aahein bharti hain
Idhar udhar jaati galiyan
Dhoom machaya karti thin
Un jaane jaane boojhe
Geet sunaya karti thin
Lekin phir bhi mera ghar
Soya soya rehta tha!
Ghar ka ik ik darwaza
Khoya khoya rehta tha!
Aaj magar ik nau-vaarud
Bachche ka rona sun kar
Chaunk pade deewar-o-dar
Jaag utha hai mera ghar

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام