محمد علوی — شاعر کی تصویر

اک اک کر کے سب جاتے ہیں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

اک اک کر کے سب جاتے ہیں

اک اک کر کے سب جاتے ہیں
کیا جانے ہم کب جاتے ہیں
تنہائی کے بوجھ تلے ہم
رات آئے تو دب جاتے ہیں
وہ تو اور کہیں ہوتا ہے
اس کے گھر ہم جب جاتے ہیں
کہنے سننے کو اب کیا ہے
بھائی مرے ہم اب جاتے ہیں
ایسا کیوں ہوتا ہے علوی
دن کیوں بے مطلب جاتے ہیں

Ek ek kar ke sab jaate hain

Ek ek kar ke sab jaate hain
Kya jaane hum kab jaate hain
Tanhai ke bojh tale hum
Raat aaye to dab jaate hain
Woh to aur kahin hota hai
Us ke ghar hum jab jaate hain
Kehne sunne ko ab kya hai
Bhai mere hum ab jaate hain
Aisa kyun hota hai Alvi
Din kyun be-matlab jaate hain

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام