اک ستارے نے آنکھ ماری ہے
دوسرے نے نظر اتاری ہے
بھیکھ لیتا ہے وہ بھی سورج سے
چاند پہنچا ہوا بھکاری ہے
رات تارے شکار کرتی ہے
دیکھیے آج کس کی باری ہے
آسماں خون میں نہایا ہے
شام کے ہاتھ میں کٹاری ہے
جاننے والے جان جائیں گے
رات تم نے کہاں گزاری ہے
یہ نہ مشتاقؔ کی نہ غالبؔ کی
صاحبو یہ غزل ہماری ہے
یار علویؔ کہاں چلے لے کر
کس حویلی کی یہ سواری ہے
محمد علوی
Ek sitare ne aankh maari hai
Doosre ne nazar utari hai
Bheekh leta hai woh bhi suraj se
Chand pahuncha hua bhikaari hai
Raat tare shikar karti hai
Dekhiye aaj kis ki baari hai
Aasman khoon mein nahaya hai
Shaam ke haath mein katari hai
Janne wale jaan jaenge
Raat tum ne kahan guzari hai
Yeh na Mushtaq ki na Ghalib ki
Sahibo yeh ghazal hamari hai
Yaar Alvi kahan chale le kar
Kis haveli ki yeh sawari hai
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں