ایک سنسان رستہ پہ چلتے ہوئے
یاد آئی تری شام ڈھلتے ہوئے
اپنی اپنی جگہ جھلملانے لگے
ایک اک کر کے تارے نکلتے ہوئے
خواب کی بستیاں دور تو تھیں مگر
ہم بھی جا پہنچے گرتے سنبھلتے ہوئے
ٹرین میں لوگ حیرت سے دیکھا کیے
کھڑکیوں میں تھے منظر بدلتے ہوئے
تم کو علویؔ کہاں سے کہاں لائے ہیں
وقت کے ساتھ موسم بدلتے ہوئے
محمد علوی
Ek sunsan rasta pe chalte hue
Yaad aai teri sham dhalte hue
Apni apni jagah jhilmilane lage
Ek ek kar ke tare nikalte hue
Khwab ki bastiyan door to thin magar
Hum bhi ja pahunche girte sambhalte hue
Train mein log hairat se dekha kiye
Khidkiyon mein the manzar badalte hue
Tum ko Alvi kahan se kahan laye hain
Waqt ke sath mausam badalte hue
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں