گھڑی بھر بھی دیکھا نہ بھالا مجھے
کھڑے پاؤں گھر سے نکالا مجھے
کروں گا میں قید اس کو فانوس میں
کہیں تو ملے گا اجالا مجھے
حریفوں سے اب سامنا ہے مرا
بہت دوستوں نے اچھالا مجھے
تری مملکت میں ستارے بھی تھے
زمیں پر ہی کیوں لا کے ڈالا مجھے
غزل کہہ کے علویؔ میں ڈھونڈھا کیا
ملا نا کوئی سننے والا مجھے
محمد علوی
Ghadi bhar bhi dekha na bhala mujhe
Khade paon ghar se nikala mujhe
Karunga main qaid usko fanoos mein
Kahin toh milega ujaala mujhe
Hareefon se ab saamna hai mera
Bahut doston ne uchhala mujhe
Teri mamlakat mein sitaare bhi thhe
Zameen par hi kyun laa ke dala mujhe
Ghazal keh ke Alviؔ main dhundha kya
Mila na koi sunne wala mujhe
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں