گھر سے باہر کس بلا کا شور تھا
میرے گھر میں جیسے میں خود چور تھا
میں نے دل میں جھانک کر دیکھا اسے
پھر اسی کا عکس چاروں اور تھا
پہلے ناچا اور پھر رونے لگا
میرا دل بھی جیسے کوئی مور تھا
گھر کے اندر خاک کھانے کو نہ تھی
سرحدوں پر دشمنوں کا زور تھا
میں نے کل رستے میں دیکھا تھا اسے
مجھ کو کیا معلوم تھا وہ چور تھا
رات بھر علویؔ کو میں پڑھتا رہا
یار وہ شاعر تو سچ مچ بور تھا
محمد علوی
Ghar se bahar kis bala ka shor tha
Mere ghar mein jaise main khud chor tha
Maine dil mein jhaank kar dekha use
Phir usi ka aks chaaron aur tha
Pehle naacha aur phir rone laga
Mera dil bhi jaise koi mor tha
Ghar ke andar khaak khaane ko na thi
Sarhadon par dushmanon ka zor tha
Maine kal raste mein dekha tha use
Mujh ko kya maloom tha woh chor tha
Raat bhar Alvi ko main padhta raha
Yaar woh shayar toh sach much bore tha
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں