محمد علوی — شاعر کی تصویر

گھر — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

گھر

اب میں گھر میں پاؤں نہیں رکھوں گا کبھی
گھر کی اک اک چیز سے مجھ کو نفرت ہے
گھر والے سب کے سب میرے دشمن ہیں
جیل سے ملتی جلتی گھر کی صورت ہے
ابا مجھ سے روز یہی فرماتے ہیں
''کب تک میرا خون پسینہ چاٹو گے''
اماں بھی ہر روز شکایت کرتی ہیں
''کیا یہ جوانی پڑے پڑے ہی کاٹو گے''
بھائی کتابوں کو روتا رہتا ہے سدا
بہنیں اپنا جسم چرائے رہتی ہیں
میلے کپڑے تن پہ داغ لگاتے ہیں
بھیگی آنکھیں جانے کیا کیا کہتی ہیں
چولھے کو جی بھر کے آگ نہیں ملتی
کپڑوں کو صندوق ترستے رہتے ہیں
دروازہ کھڑکی منہ کھولے تکتے ہیں
دیواروں پر بھتنے ہنستے رہتے ہیں
اب میں گھر میں پاؤں نہیں رکھوں گا کبھی
روز یہی میں سوچ کے گھر سے جاتا ہوں
سب رستے ہر پھر کے واپس آتے ہیں
روز میں اپنے آپ کو گھر میں پاتا ہوں!

Ghar

Ab main ghar mein paaon nahin rakhunga kabhi
Ghar ki ik ik cheez se mujh ko nafrat hai
Ghar wale sab ke sab mere dushman hain
Jail se milti julti ghar ki soorat hai
Abba mujh se roz yehi farmate hain
''Kab tak mera khoon paseena chaatoge''
Amma bhi har roz shikayat karti hain
''Kya yeh jawani pade pade hi kaatoge''
Bhai kitabon ko rota rehta hai sada
Behnein apna jism churaye rehti hain
Maile kapde tan pe daagh lagate hain
Bheegi aankhen jaane kya kya kehti hain
Choolhe ko jee bhar ke aag nahin milti
Kapron ko sandooq taraste rehte hain
Darwaza khidki munh khole takte hain
Deewaron par bhutne hanste rehte hain
Ab main ghar mein paaon nahin rakhunga kabhi
Roz yehi main soch ke ghar se jata hoon
Sab raste har phir ke wapas aate hain
Roz main apne aap ko ghar mein pata hoon!

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام