گلوں کے درمیاں اچھی لگی ہیں
ہمیں یہ تتلیاں اچھی لگی ہیں
گلی میں کوئی گھر اچھا نہیں تھا
مگر کچھ کھڑکیاں اچھی لگی ہیں
نہا کر بھیگے بالوں کو سکھاتی
چھتوں پر لڑکیاں اچھی لگی ہیں
حنائی ہاتھ دروازے سے باہر
اور اس میں چوڑیاں اچھی لگی ہیں
بچھڑتے وقت ایسا بھی ہوا ہے
کسی کی سسکیاں اچھی لگی ہیں
حسینوں کو لیے بیٹھیں ہیں علویؔ
تبھی تو کرسیاں اچھی لگی ہیں
محمد علوی
Gulon ke darmiyan achchhi lagi hain
Hamein ye tittliyan achchhi lagi hain
Gali mein koi ghar achchha nahin tha
Magar kuch khidkiyan achchhi lagi hain
Naha kar bheegay baalon ko sukhati
Chhaton par ladkiyan achchhi lagi hain
Hinaai haath darwaze se bahar
Aur us mein chudiyan achchhi lagi hain
Bichhadte waqt aisa bhi hua hai
Kisi ki siskiyan achchhi lagi hain
Haseenon ko liye baithe hain Alvi
Tabhi to kursiyan achchhi lagi hain
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں