حال سنانا ہے اپنا
رنگ جمانا ہے اپنا
عادل کی کیا بات کریں
دوست پرانا ہے اپنا
اس کی یادوں میں اکثر
آنا جانا ہے اپنا
وہ جس شہر میں رہتا ہے
وہی ٹھکانہ ہے اپنا
شعر کہو تم بھی ہم بھی
یار زمانہ ہے اپنا
ہم دیوانے شعر کے ہیں
شعر دوانہ ہے اپنا
شہرت سے جو آگے ہے
وہی نشانہ ہے اپنا
ہم اس کے دیوانے ہیں
وہ دیوانہ ہے اپنا
ہم عادل کے دادہ ہیں
عادل نانا ہے اپنا
باقی علویؔ آئندہ
یہ جو فسانہ ہے اپنا
محمد علوی
Haal sunana hai apna
Rang jamana hai apna
Aadil ki kya baat karein
Dost purana hai apna
Uski yaadon mein aksar
Aana jaana hai apna
Woh jis shahar mein rehta hai
Wahi thikana hai apna
Sher kaho tum bhi hum bhi
Yaar zamana hai apna
Hum deewane sher ke hain
Sher deewana hai apna
Shohrat se jo aage hai
Wahi nishana hai apna
Hum uske deewane hain
Woh deewana hai apna
Hum Aadil ke dada hain
Aadil nana hai apna
Baaqi Alviؔ aainda
Yeh jo fasana hai apna
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں