محمد علوی — شاعر کی تصویر

ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں

ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں
سب اپنے اپنے خوابوں میں کھوئے ہوئے سے ہیں
میں شام کے حصار میں جکڑا ہوا سا ہوں
منظر مرے لہو میں ڈبوئے ہوئے سے ہیں
محسوس ہو رہا ہے یہ پھولوں کو دیکھ کر
جیسے تمام رات کے روئے ہوئے سے ہیں
اک ڈور ہی ہے دن کی مہینوں کی سال کی
اس میں کہیں پہ ہم بھی پروئے ہوئے سے ہیں
علویؔ یہ معجزہ ہے دسمبر کی دھوپ کا
سارے مکان شہر کے دھوئے ہوئے سے ہیں

Har chand jāgte hain pe soye hue se hi hain

Har chand jāgte hain pe soye hue se hi hain
Sab apne apne khwābon mein khoye hue se hi hain
Maiñ shām ke hisār mein jakḍā huā sa huñ
Manzar mere lahu mein ḍuboye hue se hi hain
Mahsoos ho rahā hai yeh phoolon ko dekh kar
Jaise tamām rāt ke roye hue se hi hain
Ik ḍor hi hai din kī mahīnon kī saal kī
Is mein kahīñ pe hum bhi proye hue se hi hain
Alwi yeh mojza hai December kī dhoop ka
Sāre makān shahr ke dhoye hue se hi hain

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام