محمد علوی — شاعر کی تصویر

ہر اک جھونکا نکیلا ہو گیا ہے — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

ہر اک جھونکا نکیلا ہو گیا ہے

ہر اک جھونکا نکیلا ہو گیا ہے
فضا کا رنگ نیلا ہو گیا ہے
ابھی دو چار ہی بوندیں گریں ہیں
مگر موسم نشیلا ہو گیا ہے
کریں کیا دل اسی کو مانگتا ہے
یہ سالا بھی ہٹیلا ہو گیا ہے
خبر کیا تھی کہ نیکی بانجھ ہوگی
بدی کا تو قبیلہ ہو گیا ہے
خدا رکھے جوانی آ گئی ہے
گنہ بانکا سجیلا ہو گیا ہے
نہ جانے چھت پہ کیا دیکھا تھا علویؔ
بچارا چاند پیلا ہو ہے

Har ik jhoñkā nukīlā ho gayā hai

Har ik jhoñkā nukīlā ho gayā hai
Fizā ka rang neelā ho gayā hai
Abhi do chār hi boondein girī hain
Magar mausam nasheelā ho gayā hai
Karein kya dil isi ko māngtā hai
Yeh sālā bhi haṭeelā ho gayā hai
Khabar kya thi ki nekī bānjh hogī
Badī ka to qabīla ho gayā hai
Khuda rakhe jawānī aa gaī hai
Gunah bāñkā sajeelā ho gayā hai
Na jaane chhat pe kya dekhā tha Alwi
Bichārā chānd peelā ho gayā hai

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام