ہوا سرد ہے
راستے کا دیا زرد ہے
ہر طرف دھند ہے
گرد ہے
دور سے جو چلا آ رہا ہے
وہ سایہ ہے لیکن
نہ جانے وہ عورت ہے
یا مرد ہے
میں دریچے میں
تنہا کھڑا سوچتا ہوں
رات کے پاس میرے لیے کیا ہے
ان جانی خوشیاں ہیں یا
کل کا باسی پرانا
پھپھوندی لگا درد ہے
ہوا سرد ہے
محمد علوی
Hawa sard hai
Raaste ka diya zard hai
Har taraf dhund hai
Gard hai
Dur se jo chala aa raha hai
Woh saya hai lekin
Na jaane woh aurat hai
Ya mard hai
Main dariche mein
Tanha khada sochta hoon
Raat ke paas mere liye kya hai
An-jaani khushiyan hain ya
Kal ka baasi purana
Phaphundi laga dard hai
Hawa sard hai
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں