محمد علوی — شاعر کی تصویر

ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیں

ہزاروں لاکھوں دلی میں مکاں ہیں
مگر پہچاننے والے کہاں ہیں
کہیں پر سلسلہ ہے کوٹھیوں کا
کہیں گرتے کھنڈر ہیں نالیاں ہیں
کہیں ہنستی چمکتی صورتیں ہیں
کہیں مٹتی ہوئی پرچھائیاں ہیں
کہیں آواز کے پردے پڑے ہیں
کہیں چپ میں کئی سرگوشیاں ہیں
قطب صاحب کھڑے ہیں سر جھکائے
قلعے پر گدھ بہت ہی شادماں ہیں
ارے یہ کون سی سڑکیں ہیں بھائی
یہاں تو لڑکیاں ہی لڑکیاں ہیں
لکھا ملتا ہے دیواروں پہ اب بھی
تو کیا اب بھی وہی بیماریاں ہیں
حوالوں پر حوالے دے رہے ہیں
یہ صاحب تو کتابوں کی دکاں ہیں
مرے آگے مجھی کو کوستے ہیں
مگر کیا کیجیے اہل زباں ہیں
دکھایا ایک ہی دلی نے کیا کیا
برا ہو اب تو دو دو دلیاں ہیں
یہاں بھی دوست مل جاتے ہیں علویؔ
یہاں بھی دوستوں میں تلخیاں ہیں

Hazaron lakhon Dilli mein makan hain

Hazaron lakhon Dilli mein makan hain
Magar pehchanne wale kahan hain
Kahin par silsila hai kothiyon ka
Kahin girte khandhar hain naliyan hain
Kahin hansti chamakti soorten hain
Kahin mittti hui parchhaiyan hain
Kahin aawaz ke parde pade hain
Kahin chup mein kayi sargoshiyan hain
Qutub Sahab khade hain sar jhukaye
Qile par giddh bahut hi shadmaan hain
Are ye kaun si sadken hain bhai
Yahan to ladkiyan hi ladkiyan hain
Likha milta hai deewaron pe ab bhi
To kya ab bhi wahi bimariyan hain
Hawalon par hawale de rahe hain
Ye Sahab to kitabon ki dukan hain
Mere aage mujhi ko koste hain
Magar kya keejiye ahl-e-zaban hain
Dikhaaya ek hi Dilli ne kya kya
Bura ho ab to do do Dilliyan hain
Yahan bhi dost mil jaate hain Alvi
Yahan bhi doston mein talkhiyan hain

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام