ادھر رہا ہوں ادھر رہا ہوں
کہیں نہیں ہوں مگر رہا ہوں
یہ کیسی آواز آ رہی ہے
یہ کس جگہ سے گزر رہا ہوں
یہ کیسا خدشہ لگا ہوا ہے
یہ کون ہے کس سے ڈر رہا ہوں
ہزاروں سورج بجھے پڑے ہیں
میں اپنے اندر اتر رہا ہوں
لہو کی بو سونگھتے ہیں کتے
ہوا پہ الزام دھر رہا ہوں
کہاں چھپے ہو بتاؤ علویؔ
تلاش برسوں سے کر رہا ہوں
محمد علوی
Idhar raha hooN udhar raha hooN
Kaheen nahin hooN magar raha hooN
Yeh kaisi aawaz aa rahi hai
Yeh kis jagah se guzar raha hooN
Yeh kaisa khadsha laga hua hai
Yeh kaun hai kis se Dar raha hooN
HazaroN suraj bujhe paRe hain
Main apne andar utar raha hooN
Lahu ki boo sooNghte hain kutte
Hawa pe ilzam dhar raha hooN
Kahan chhupe ho batao Alvi
Talaash barsoN se kar raha hooN
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں