محمد علوی — شاعر کی تصویر

ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میں

ارادہ ہے کسی جنگل میں جا رہوں گا میں
تمہارا نام ہر اک پیڑ پر لکھوں گا میں
ہر ایک پیڑ پہ چڑھ کے تمہیں پکاروں گا
ہر ایک پیڑ کے نیچے تمہیں ملوں گا میں
ہر ایک پیڑ کوئی داستاں سنائے گا
سمجھ نہ پاؤں گا لیکن سنا کروں گا میں
تمام رات بہاروں کے خواب دیکھوں گا
گرے پڑے ہوئے پتوں پہ سو رہوں گا میں
اندھیرا ہونے سے پہلے پرندے آئیں گے
اجالا ہونے سے پہلے ہی جاگ اٹھوں گا میں
تمہیں یقین نہ آئے تو کیا ہوا علویؔ
مجھے یقین ہے ایسے بھی جی سکوں گا میں

Irāda hai kisi jangal mein ja rahūñgā maiñ

Irāda hai kisi jangal mein ja rahūñgā maiñ
Tumhārā nām har ik peḍ par likhūñgā maiñ
Har ek peḍ pe chaḍh ke tumhein pukārūñgā
Har ek peḍ ke neeche tumhein milūñgā maiñ
Har ek peḍ koī dāstāñ sunāyega
Samajh na pāūñgā lekin sunā karūñgā maiñ
Tamām rāt bahāron ke khwāb dekhūñgā
Gire paḍe hue pattoñ pe so rahūñgā maiñ
Andherā hone se pehle parinde āyeñge
Ujālā hone se pehle hi jāg uṭhūñgā maiñ
Tumhein yaqeen na aaye to kya huā Alwi
Mujhe yaqeen hai aise bhi jee sakūñgā maiñ

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام