محمد علوی — شاعر کی تصویر

جاتی ہوئی لڑکی کو صدا دینا چاہیئے — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

جاتی ہوئی لڑکی کو صدا دینا چاہیئے

جاتی ہوئی لڑکی کو صدا دینا چاہیئے
گھر ہو تو برا کیا ہے پتہ دینا چاہیئے
ہونٹوں کے گلابوں کو چرا لینے سے پہلے
بالوں میں کوئی پھول کھلا دینا چاہیئے
ڈر ہے کہیں کمرے میں نہ گھس آئے یہ منظر
کھڑکی کو کہیں اور ہٹا دینا چاہیئے
پر تول کے بیٹھی ہے مگر اڑتی نہیں ہے
تصویر سے چڑیا کو اڑا دینا چاہیئے
صدیوں سے کنارے پہ کھڑا سوکھ رہا ہے
اس شہر کو دریا میں گرا دینا چاہیئے
مرنے میں مزا ہے مگر اتنا تو نہیں ہے
علویؔ تمہیں قاتل کو دعا دینا چاہئے

Jātī huī laḍki ko sadā denā chāhiye

Jātī huī laḍki ko sadā denā chāhiye
Ghar ho to burā kya hai patā denā chāhiye
Hoñṭon ke gulābon ko churā lene se pehle
Bālon mein koī phool khilā denā chāhiye
Ḍar hai kahīñ kamre mein na ghus aaye yeh manzar
Khiḍkī ko kahīñ aur haṭā denā chāhiye
Par tol ke baiṭhi hai magar uḍtī nahīñ hai
Tasveer se chiḍiyā ko uḍā denā chāhiye
Sadiyon se kināre pe khaḍā sookh rahā hai
Is shahr ko daryā mein girā denā chāhiye
Marne mein mazā hai magar itnā to nahīñ hai
Alwi tumhein qātil ko duā denā chāhiye

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام