سال میں اک بار آتا ہے
آتے ہی مجھ سے کہتا ہے
''کیسے ہو
اچھے تو ہو
لاؤ اس بات پہ کیک کھلاؤ
رات کے کھانے میں کیا ہے
اور کہو کیا چلتا ہے''
پھر ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہتا ہے
پھر گھڑی دیکھ کے کہتا ہے
''اچھا تو میں جاتا ہوں
پیارے اب میں
ایک سال کے بعد آؤں گا
کیک بنا کے رکھنا
ساتھ میں مچھلی بھی کھاؤں گا''
اور چلا جاتا ہے!
اس سے مل کر
تھوڑی دیر مزا آتا ہے!
لیکن پھر میں سوچتا ہوں
خاص مزا تو تب آئے گا
جب وہ آ کر
مجھ کو ڈھونڈھتا رہ جائے گا!!
محمد علوی
Saal mein ik baar aata hai
Aate hi mujh se kehta hai
''Kaise ho
Achhe to ho
Lao is baat pe cake khilao
Raat ke khane mein kya hai
Aur kaho kya chalta hai''
Phir idhar udhar ki baatein karta rehta hai
Phir ghari dekh ke kehta hai
''Achha to main jata hoon
Pyare ab main
Ek saal ke baad aaunga
Cake bana ke rakhna
Saath mein machhli bhi khaunga''
Aur chala jata hai!
Is se mil kar
Thodi der maza aata hai!
Lekin phir main sochta hoon
Khaas maza to tab aayega
Jab woh aa kar
Mujh ko dhoondhta reh jayega!!
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں