محمد علوی — شاعر کی تصویر

جاتے جاتے دیکھنا پتھر میں جاں رکھ جاؤں گا — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

جاتے جاتے دیکھنا پتھر میں جاں رکھ جاؤں گا

جاتے جاتے دیکھنا پتھر میں جاں رکھ جاؤں گا
کچھ نہیں تو ایک دو چنگاریاں رکھ جاؤں گا
نیند میں بھی خواب رکھنے کی جگہ باقی نہیں
سوچتا ہوں یہ خزانہ اب کہاں رکھ جاؤں گا
سب نمازیں باندھ کر لے جاؤں گا میں اپنے ساتھ
اور مسجد کے لیے گونگی اذاں رکھ جاؤں گا
جانتا ہوں یہ تماشہ ختم ہونے کا نہیں
ہال میں اک روز خالی کرسیاں رکھ جاؤں گا
چاند سورج اور تارے پھونک ڈالوں گا سبھی
اس زمیں پر ایک ننگا آسماں رکھ جاؤں گا
چھوڑ دوں گا اب میں علویؔ آخری دن کی تلاش
اور ادب کے شہر میں خالی مکاں رکھ جاؤں گا

Jate jate dekhna patthar mein jaan rakh jaunga

Jate jate dekhna patthar mein jaan rakh jaunga
Kuchh nahin to ek do chingariyan rakh jaunga
Neend mein bhi khwab rakhne ki jagah baqi nahin
Sochta hun ye khazana ab kahan rakh jaunga
Sab namazen baandh kar le jaunga main apne saath
Aur masjid ke liye goongi azan rakh jaunga
Jaanta hun ye tamasha khatm hone ka nahin
Hall mein ik roz khali kursiyan rakh jaunga
Chand suraj aur tare phoonk dalunga sabhi
Is zameen par ek nanga aasman rakh jaunga
Chhod dunga ab main Alwi aakhri din ki talash
Aur adab ke shahr mein khali makan rakh jaunga

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام