محمد علوی — شاعر کی تصویر

کام کچھ ایسا آن پڑا ہے — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

کام کچھ ایسا آن پڑا ہے

کام کچھ ایسا آن پڑا ہے
خطرے میں ایمان پڑا ہے
بھوکا ننگا مر رہنے کو
سارا ہندستان پڑا ہے
اک کونے میں ہم رہتے ہیں
دوسرے میں مہمان پڑا ہے
دیکھیں کب باہر آتا ہے
دل میں جو طوفان پڑا ہے
کون سے ہم اللہ والے ہیں
پیچھے کیوں شیطان پڑا ہے
گھر میں اور تو کیا ہے اپنے
لے دے کے مہمان پڑا ہے
علویؔ میں اک شاعر تھا جو
برسوں سے بے جان پڑا ہے

kaam kuch aisa aan paDa hai

kaam kuch aisa aan paDa hai
khatre mein imaan paDa hai
bhooka nanga mar rahne ko
sara Hindustan paDa hai
ik kone mein ham rahte hain
doosre mein mehman paDa hai
dekhen kab bahar aata hai
dil mein jo toofan paDa hai
kaun se ham Allah wale hain
peeche kyon shaitan paDa hai
ghar mein aur to kya hai apne
le de ke mehman paDa hai
Alwi main ik shair tha jo
batson se be-jaan paDa hai

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام