محمد علوی — شاعر کی تصویر

کبھی تجھ سے ایسا بھی یارانا تھا — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

کبھی تجھ سے ایسا بھی یارانا تھا

کبھی تجھ سے ایسا بھی یارانا تھا
مصلے سے اٹھنا گوارا نہ تھا
یوں ہی اس طرف ہم چلے آئے تھے
کسی نے بھی ہم کو پکارا نہ تھا
وہ اک موج تھی سر اٹھاتی ہوئی
کہیں کیسے دل سے کنارا نہ تھا
چمک جس کی کل شب مزا دے گئی
کہیں آج کی شب وہ تارا نہ تھا
بہت خوش ہوئے آئینہ دیکھ کر
یہاں کوئی ثانی ہمارا نہ تھا
سحر ہو رہی تھی مگر رات نے
لباس عروسی اتارا نہ تھا

Kabhi Tujh Se Aisa Bhi Yarana Tha

Kabhi tujh se aisa bhi yarana tha
Musalle se uThna gawara na tha
YuN hi us taraf hum chale aaye the
Kisi ne bhi hum ko pukara na tha
Woh ek mauj thi sar uThati hui
Kaheen kaise dil se kinara na tha
Chamak jis ki kal shab maza de gayi
Kaheen aaj ki shab woh tara na tha
Bahut khush hue aaina dekh kar
Yahan koi saani hamara na tha
Sahar ho rahi thi magar raat ne
Libas-e-uroosi utara na tha

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام