نقاہت کے مارے برا حال تھا
پھر بھی بستر سے اٹھ کر
بڑے پیار سے اس نے مجھ کو بلایا
مرے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ پھیرا
نہایت حلیمی سے مجھ کو کہا
سنو میرے بچے
تمہیں آج میں
اپنے پچپن برس دے رہا ہوں
اگر ہو سکے تو
کبھی ان کی قیمت چکانا
مری قبر پر تھوک جانا
بس اتنا کہا اور وہ مر گیا
اور میں
اس کے برسوں کی قیمت کو
منہ میں چھپائے
اسے ڈھونڈتا ہوں
کہاں دفن ہے وہ
محمد علوی
Naqahat ke maare bura haal tha
Phir bhi bistar se uth kar
Bade pyar se us ne mujh ko bulaya
Mere sar pe shafqat bhara haath phera
Nihayat haleemi se mujh ko kaha
Suno mere bachche
Tumhein aaj main
Apne pachpan baras de raha hoon
Agar ho sake toh
Kabhi un ki qeemat chukana
Meri qabar par thook jaana
Bas itna kaha aur woh mar gaya
Aur main
Us ke barson ki qeemat ko
Munh mein chhupaye
Use dhoondhta hoon
Kahan dafn hai woh
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں