کبھی دل کے اندھے کنویں میں
پڑا چیختا ہے
کبھی دوڑتے خون میں
تیرتا ڈوبتا ہے
کبھی ہڈیوں کی سرنگوں میں بتی جلا کر
یوں ہی گھومتا ہے
کبھی کان میں آ کے
چپکے سے کہتا ہے تو اب تلک جی رہا ہے؟
بڑا بے حیا ہے!
مرے جسم میں کون ہے یہ
جو مجھ سے خفا ہے
محمد علوی
Kabhi dil ke andhe kunwein mein
Pada cheekhta hai
Kabhi daudte khoon mein
Tairta doobta hai
Kabhi haddiyon ki surangon mein batti jala kar
Yun hi ghoomta hai
Kabhi kaan mein aa ke
Chupke se kehta hai tu ab talak jee raha hai?
Bada be-haya hai!
Mere jism mein kaun hai yeh
Jo mujh se khafa hai
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں