محمد علوی — شاعر کی تصویر

خوفناک کمرہ — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

خوفناک کمرہ

آنکھیں تڑپ اٹھی ہیں اندھیرے میں ڈوب کر
کمرے میں اور کوئی نہیں کوئی ہے مگر
دیوار و در پہ ہانپ رہا ہے عجیب ڈر
میں سوچتا ہوں بھاگ ہی جاؤں مگر کدھر
ٹوٹا ہوا پڑا ہے مرا جسم فرش پر

Khaufnak Kamra

Aankhen tadap uthi hain andhere mein doob kar
Kamre mein aur koi nahin koi hai magar
Deewar o dar pe haanp raha hai ajeeb dar
Main sochta hoon bhaag hi jaaun magar kidhar
Toota hua pada hai mera jism farsh par

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام