موٹر دوڑ لگاتی ہے
چھک چھک گاڑی آتی ہے
توپ سے آگ نکلتی ہے
پلین میں بتی جلتی ہے
گڑیا آنکھیں کھولتی ہے
آگے پیچھے ڈولتی ہے
مرغی انڈے دیتی ہے
چڑیا دانے لیتی ہے
کتا باجا سنتا ہے
اونٹ کھڑا سر دھنتا ہے
بندر بینڈ بجاتا ہے
ہاتھی سونڈ نچاتا ہے
بھالو دارو پیتا ہے
گائے کے اوپر چیتا ہے
سارے کھلونے ہیں لیکن
یہ سب سچے لگتے ہیں
اور کھلونے جیسے تو
اپنے بچے لگتے ہیں
محمد علوی
Motor daud lagati hai
Chhak chhak gaadi aati hai
Toap se aag nikalti hai
Plane mein batti jalti hai
Gudiya aankhen kholti hai
Aage peeche dolti hai
Murghi ande deti hai
Chidiya daane leti hai
Kutta baaja sunta hai
Oont khada sar dhunta hai
Bandar band bajata hai
Haathi soond nachata hai
Bhaloo daaru peeta hai
Gaaye ke oopar cheeta hai
Saare khilaune hain lekin
Yeh sab sachche lagte hain
Aur khilaune jaise to
Apne bachche lagte hain
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں