خوش رہیں گھر میں عورتیں اپنی
گل کھلاتی رہیں چھتیں اپنی
وقت کے ساتھ ساتھ ڈرتا ہوں
بڑھ نہ جائیں ضرورتیں اپنی
اک نہ اک دن ضرور آؤں گا
تم بچا رکھنا فرصتیں اپنی
ہم دلوں سے نکالے جاتے ہیں
یوں بھی ہوتی ہیں ہجرتیں اپنی
اور کیا اپنے ساتھ جائے گا
رہ نہ جائیں عبادتیں اپنی
سال کے سال یاد آتی ہیں
علویؔ ہم کو شہادتیں اپنی
محمد علوی
Khush rahein ghar mein aurtein apni
Gul khilati rahein chhaten apni
Waqt ke saath saath darta hoon
Badh na jaayen zarooratein apni
Ek na ek din zaroor aaunga
Tum bacha rakhna fursatein apni
Hum dilon se nikale jaate hain
Yoon bhi hoti hain hijratein apni
Aur kya apne saath jaayega
Reh na jaayen ibadatain apni
Saal ke saal yaad aati hain
Alviؔ hum ko shahadatain apni
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں