محمد علوی — شاعر کی تصویر

کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر

کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر
اب اور اپنے آپ کو مت پائمال کر
مرنے کے ڈر سے اور کہاں تک جئے گا تو
جینے کے دن تمام ہوئے انتقال کر
اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیں
اک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر
دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا
خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر
خواجہ کے در سے کوئی بھی خالی نہیں گیا
آیا ہے اتنے دور تو علویؔ سوال کر

kitna haseen tha tu kabhi kuch khayal kar

kitna haseen tha tu kabhi kuch khayal kar
ab aur apne aap ko mat paimal kar
marne ke Dar se aur kahan tak jiye ga tu
jeene ke din tamam hue intiqal kar
ek yaad reh gayi hai magar wo bhi kam nahin
ek dard reh gaya hai so rakhna sambhal kar
dekha to sab ke sar pe gunahon ka bojh tha
khush the tamam nekiyan dariya mein Daal kar
khwaja ke dar se koi bhi khali nahin gaya
aaya hai itne door to Alvi sawal kar

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام