محمد علوی — شاعر کی تصویر

کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے

کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے
دن کہاں اتنے کڑے لگتے تھے
خوش تو پہلے بھی نہیں تھے لیکن
یوں نہ اندر سے بجھے لگتے تھے
روز کے دیکھے ہوئے منظر تھے
پھر بھی ہر روز نئے لگتے تھے
ان دنوں گھر سے عجب رشتہ تھا
سارے دروازے گلے لگتے تھے
رہ سمجھتی تھیں اندھیری گلیاں
لوگ پہچانے ہوئے لگتے تھے
جھیلیں پانی سے بھری رہتی تھیں
سب کے سب پیڑ ہرے لگتے تھے
شہر تھے اونچی فصیلوں والے
ڈر زمانے کے پرے لگتے تھے
باندھ رکھا تھا زمیں نے علویؔ
ہم مگر پھر بھی اڑے لگتے تھے

koi mausam ho bhale lagte the

koi mausam ho bhale lagte the
din kahan itne kaRe lagte the
khush to pahle bhi nahin the lekin
yun na andar se bujhe lagte the
roz ke dekhe hue manzar the
phir bhi har roz naye lagte the
in dinon ghar se ajab rishta tha
sare darwaze gale lagte the
rah samajhti thin andheri galiyan
log pahchane hue lagte the
jheelen pani se bhari rehti thin
sab ke sab peR hare lagte the
shahr the oonchi faseelon wale
Dar zamane ke pare lagte the
bandh rakha tha zameen ne Alvi
ham magar phir bhi uRe lagte the

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام