کوئی تو سہارا نظر آئے گا
ابھی کوئی تارہ نظر آئے گا
ارادہ ہے اس سے لپٹ جاؤں گا
اگر وہ دوبارہ نظر آئے گا
سمندر سے یاری بڑھاتے رہو
کبھی تو کنارہ نظر آئے گا
اسے اپنے خوابوں میں دیکھا کرو
تمہیں وہ تمہارا نظر آئے گا
مرا شہر ہے یہ یہاں پر کوئی
مصیبت کا مارا نظر آئے گا
محمد علوی
koi to sahara nazar aaega
abhi koi tara nazar aaega
irada hai us se lipat jaun ga
agar woh dobara nazar aaega
samundar se yari baDhate raho
kabhi to kinara nazar aaega
use apne khwabon mein dekha karo
tumhen woh tumhara nazar aaega
mera shahar hai ye yahan par koi
museebat ka mara nazar aaega
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں