کیا کہتے کیا جی میں تھا
شور بہت بستی میں تھا
پہلی بوند گری ٹپ سے
پھر سب کچھ پانی میں تھا
چھتیں گریں گھر بیٹھ گئے
زور ایسا آندھی میں تھا
موجیں ساحل پھاند گئیں
دریا گلی گلی میں تھا
میری لاش نہیں ہے یہ
کیا اتنا بھاری میں تھا
آخر طوفاں گزر گیا
دیکھا تو باقی میں تھا
چھوڑ گیا مجھ کو علویؔ
شاید وہ جلدی میں تھا
محمد علوی
Kya kehte kya jee mein tha
Shor bahut basti mein tha
Pehli boond giri tap se
Phir sab kuch paani mein tha
Chhaten girin ghar baith gaye
Zor aisa aandhi mein tha
Maujen saahil phand gayin
Dariya gali gali mein tha
Meri laash nahin hai ye
Kya itna bhaari main tha
Aakhir toofan guzar gaya
Dekha to baqi main tha
Chhod gaya mujh ko Alvi
Shayad woh jaldi mein tha
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں