میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں
دکھائی دے گا ابھی بتیاں بجھا دیکھوں
پھر اس کو پاؤں مرا انتظار کرتے ہوئے
پھر اس مکان کا دروازہ ادھ کھلا دیکھوں
گھٹائیں آئیں تو گھر گھر کو ڈوبتا پاؤں
ہوا چلے تو ہر اک پیڑ کو گرا دیکھوں
کتاب کھولوں تو حرفوں میں کھلبلی مچ جائے
قلم اٹھاؤں تو کاغذ کو پھیلتا دیکھوں
اتار پھینکوں بدن سے پھٹی پرانی قمیص
بدن قمیص سے بڑھ کر کٹا پھٹا دیکھوں
وہیں کہیں نہ پڑی ہو تمنا جینے کی
پھر ایک بار انہیں جنگلوں میں جا دیکھوں
وہ روز شام کو علویؔ ادھر سے جاتی ہے
تو کیا میں آج اسے اپنے گھر بلا دیکھوں
محمد علوی
main apna naam tere jism par likha dekhun
dikhai dega abhi battiyan bujha dekhun
phir us ko paaun mera intizar karte hue
phir us makan ka darwaza adh khula dekhun
ghatain aaen to ghar ghar ko doobta paaun
hawa chale to har ek peR ko gira dekhun
kitab kholun to harfon mein khalbali mach jae
qalam uThaun to kaghaz ko phailta dekhun
utar phenkun badan se phaTi purani qamis
badan qamis se baRh kar kaTa phaTa dekhun
wahin kahin na paRi ho tamanna jeene ki
phir ek bar unhen jangalon mein ja dekhun
wo roz sham ko Alvi udhar se jaati hai
to kya main aaj use apne ghar bula dekhun
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں