میں اپنے آپ سے ڈرنے لگا تھا
گلی کا شور گھر میں آ گیا تھا
پریشاں تھا کھلا دروازہ گھر کا
کوئی کھڑکی پہ دستک دے رہا تھا
اسے میں شہر بھر میں ڈھونڈ آیا
مرے کمرے میں وہ بیٹھا ہوا تھا
وہاں کے لوگ بھی کتنے عجب تھے
عجب لوگوں میں گھر کے رہ گیا تھا
بہت خوش ہو رہا تھا مجھ سے مل کے
نہ جانے آج اس کے دل میں کیا تھا
اسے میں نے بھی کل دیکھا تھا علویؔ
نئے کپڑے پہن کے جا رہا تھا
محمد علوی
Main apne aap se darne laga tha
Gali ka shor ghar mein aa gaya tha
Pareshan tha khula darwaza ghar ka
Koi khidki pe dastak de raha tha
Use main shehar bhar mein dhoond aaya
Mere kamre mein woh baitha hua tha
Wahan ke log bhi kitne ajab the
Ajab logon mein ghar ke reh gaya tha
Bahut khush ho raha tha mujh se mil ke
Na jaane aaj us ke dil mein kya tha
Use maine bhi kal dekha tha Alvi
Naye kapde pehan ke ja raha tha
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں