محمد علوی — شاعر کی تصویر

میں اور تو — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

میں اور تو

خدا وند.... مجھ میں کہاں حوصلہ ہے
کہ میں تجھ سے نظریں ملاؤں
تری شان میں کچھ کہوں
تجھے اپنی نظروں سے نیچے گراؤں
خدا وند مجھ میں کہاں حوصلہ ہے
کہ تو
روز اول سے پہلے بھی موجود تھا
آج بھی ہے
ہمیشہ رہے گا
اور میں
میری ہستی ہی کیا ہے
آج ہوں
کل نہیں ہوں
خدا وند مجھ میں کہاں حوصلہ ہے
مگر آج اک بات کہنی ہے تجھ سے
کہ میں آج ہوں
کل نہیں ہوں
یہ سچ ہے مگر
کوئی ایسا نہیں ہے
کہ جو میرے ہونے سے انکار کر دے
کسی میں یہ جرأت نہیں ہے
مگر تو
بہت لوگ کہتے ہیں تجھ کو
کہ تو وہم ہے
اور کچھ بھی نہیں ہے

Main Aur Tu

Khudawand.... mujh mein kahan hausla hai
Ke main tujh se nazrein milaun
Teri shaan mein kuch kahun
Tujhe apni nazron se neeche giraun
Khudawand mujh mein kahan hausla hai
Ke tu
Roz-e-awwal se pehle bhi maujood tha
Aaj bhi hai
Hamesha rahega
Aur main
Meri hasti hi kya hai
Aaj hoon
Kal nahin hoon
Khudawand mujh mein kahan hausla hai
Magar aaj ek baat kehni hai tujh se
Ke main aaj hoon
Kal nahin hoon
Yeh sach hai magar
Koi aisa nahin hai
Ke jo mere hone se inkaar kar de
Kisi mein yeh jur'at nahin hai
Magar tu
Bahut log kehte hain tujh ko
Ke tu wahm hai
Aur kuch bhi nahin hai

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام