محمد علوی — شاعر کی تصویر

میں نوحہ گر ہوں بھٹکتے ہوئے قبیلوں کا — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

میں نوحہ گر ہوں بھٹکتے ہوئے قبیلوں کا

میں نوحہ گر ہوں بھٹکتے ہوئے قبیلوں کا
اجڑتے شہر کی گرتی ہوئی فصیلوں کا
نکل کے جاؤں کہاں کربلا کے میداں سے
افق سے تا بہ افق سلسلہ ہے ٹیلوں کا
مرا نہیں ہوں مگر رائیگاں نہ جائے گا
گدھوں کا نیچے اترنا طواف چیلوں کا
بہت ہی دور تھے پر دل کے پاس رہتے تھے
قریب ہوتے ہوئے فاصلہ ہے میلوں کا
اٹھارہ سال سے کرتے ہیں شاعری علویؔ
یہ جانتے ہوئے پیشہ ہے یہ ذلیلوں کا

Main nauha-gar hoon bhatakte hue qabeelon ka

Main nauha-gar hoon bhatakte hue qabeelon ka
Ujadte shahar ki girti hui faseelon ka
Nikal ke jaaun kahan Karbala ke maidan se
Ufaq se ta ba ufaq silsila hai teelon ka
Mara nahin hoon magar raaigan na jaayega
Gadhon ka neeche utarna tawaaf cheelon ka
Bahut hi door thhe par dil ke paas rehte thhe
Qareeb hote hue faasla hai meelon ka
Atharah saal se karte hain shayari Alviؔ
Yeh jaante hue pesha hai yeh zaleelon ka

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام