محمد علوی — شاعر کی تصویر

مجرم — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

مجرم

میں کیوں ایسا سوچ رہا ہوں
جیسے میں نے اس دنیا میں
تیس برس اور تیس مہینے
زندہ رہ کر جرم کیا ہے
سانسیں لیتی ننھی منی
امیدوں کا خون کیا ہے
اتنے سارے انسانوں میں
جیسے میں تنہا مجرم ہوں

Mujrim

Main kyun aisa soch raha hoon
Jaise main ne is duniya mein
Tees baras aur tees mahine
Zinda reh kar jurm kiya hai
Saansein leti nanhi munni
Ummeedon ka khoon kiya hai
Itne saare insaano mein
Jaise main tanha mujrim hoon

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام