منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے
پہلے بچے بھی کتنے بوڑھے تھے
اک پرندہ سنا رہا تھا غزل
چار چھ پیڑ مل کے سنتے تھے
جن کو سوچا تھا اور دیکھا بھی
ایسے دو چار ہی تو چہرے تھے
اب تو چپ چاپ شام آتی ہے
پہلے چڑیوں کے شور ہوتے تھے
رات اترا تھا شاخ پر اک گل
چار سو خوشبوؤں کے پہرے تھے
آج کی صبح کتنی ہلکی ہے
یاد پڑتا ہے رات روئے تھے
یہ کہاں دوستوں میں آ بیٹھے
ہم تو مرنے کو گھر سے نکلے تھے
یہ بھی دن ہیں کہ آگ گرتی ہے
وہ بھی دن تھے کہ پھول برسے تھے
اب وہ لڑکی نظر نہیں آتی
ہم جسے روز دیکھ لیتے تھے
آنکھیں کھولیں تو کچھ نہ تھا علویؔ
بند آنکھوں میں لاکھوں جلوے تھے
محمد علوی
Munh zubani Quran padhte the
Pehle bachche bhi kitne boodhe the
Ek parinda suna raha tha ghazal
Chaar chhe ped mil ke sunte the
Jin ko socha tha aur dekha bhi
Aise do chaar hi toh chehre the
Ab toh chup chaap shaam aati hai
Pehle chidiyon ke shor hote the
Raat utra tha shaakh par ek gul
Chaar soo khushbu'on ke pehre the
Aaj ki subah kitni halki hai
Yaad padta hai raat roye the
Yeh kahan doston mein aa baithe
Hum toh marne ko ghar se nikle the
Yeh bhi din hain ke aag girti hai
Woh bhi din the ke phool barse the
Ab woh ladki nazar nahin aati
Hum jise roz dekh lete the
Aankhen kholin toh kuch na tha Alvi
Band aankhon mein lakhon jalwe the
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں