نہ جانے دل کہاں رہنے لگا ہے
کئی دن سے بدن سونا پڑا ہے
کسی جنگل میں کیوں جاتا نہیں ہے
ارے یہ پیڑ کیوں تنہا کھڑا ہے
منڈیروں پہ کبوتر ناچتے ہیں
کواڑوں پر سیہ تالا پڑا ہے
کوئی تو گھر کی شمعوں کو جلائے
دریچوں میں اندھیرا ہو چلا ہے
یہ دیواریں بھی اب گرنے لگی ہیں
یہاں بھی وقت کا سایا پڑا ہے
چلا چل دیکھ ڈس جائے نہ تجھ کو
ترے پیچھے ترا سایا لگا ہے
صنوبر کی گھنی شاخوں پہ علویؔ
پرندوں کا عجب میلا لگا ہے
محمد علوی
Na jaane dil kahan rehne laga hai
Kayi din se badan soona pada hai
Kisi jangal mein kyon jata nahin hai
Are ye ped kyon tanha khada hai
Mundeeron pe kabutar naachte hain
Kawaadon par siyah taala pada hai
Koi to ghar ki shamaon ko jalaye
Darichon mein andhera ho chala hai
Ye deewaren bhi ab girne lagi hain
Yahan bhi waqt ka saya pada hai
Chala chal dekh das jaye na tujh ko
Tere peechhe tera saya laga hai
Sanobar ki ghani shakhon pe Alwi
Parindon ka ajab mela laga hai
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں