محمد علوی — شاعر کی تصویر

نئے شہر میں دن بیگانے ہوتے ہیں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

نئے شہر میں دن بیگانے ہوتے ہیں

نئے شہر میں دن بیگانے ہوتے ہیں
رات انجانی خواب ڈرانے ہوتے ہیں
اس سے ہاتھ ملا کر جی کب بھرتا ہے
ہاتھوں پہ اس کے دستانے ہوتے ہیں
وہ میرے پاس آتا ہے لیکن اس نے
اور کسی کو خط لکھوانے ہوتے ہیں
رات گئے خوشبو کمرے میں بھرتی ہے
دیکھیں تو کچھ پھول سرہانے ہوتے ہیں
سچ جانو پھر اور نشہ بڑھ جاتا ہے
علویؔ کے جب شعر پرانے ہوتے ہیں

Naye shehar mein din begaane hote hain

Naye shehar mein din begaane hote hain
Raat anjaani khwab daraane hote hain
Us se haath mila kar jee kab bharta hai
Haathon pe uske dastaane hote hain
Woh mere paas aata hai lekin usne
Aur kisi ko khat likhwane hote hain
Raat gaye khushboo kamre mein bharti hai
Dekhein toh kuchh phool sirhaane hote hain
Sach jaano phir aur nasha badh jaata hai
Alviؔ ke jab sher purane hote hain

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام