اندھیرا تھا
چاروں طرف موت
منڈلا رہی تھی
نگاہوں میں
مایوسیاں بس گئی تھیں
دلوں میں
کئی خوف گھر کر گئے تھے
تو اس وقت
ہم نے
نہایت عقیدت سے
پہلے خدا کو پکارا
وہ پہلا خدا جس نے ہم کو
اندھیروں سے باہر نکالا
اجالوں کی نعمت عطا کی
مگر ہم اسے بھول بیٹھے
کہاں ہے
وہ پہلا خدا اب کہاں ہے
چلو اس کو ڈھونڈیں
ہمیں پھر
ضرورت ہے پہلے خدا کی
محمد علوی
Andhera tha
Charon taraf maut
Mandla rahi thi
Nigahon mein
Mayoosiyan bas gai thin
Dilon mein
Kai khauf ghar kar gaye the
To us waqt
Humne
Nihayat aqeedat se
Pehle Khuda ko pukara
Woh pehla Khuda jisne humko
Andheron se bahar nikala
Ujalon ki ne'mat ata ki
Magar hum usay bhool baithe
Kahan hai
Woh pehla Khuda ab kahan hai
Chalo usko dhoondhein
Hamein phir
Zaroorat hai pehle Khuda ki
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں