محمد علوی — شاعر کی تصویر

پکارتا ہوں پڑا ریگزار میں اب بھی — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

پکارتا ہوں پڑا ریگزار میں اب بھی

پکارتا ہوں پڑا ریگزار میں اب بھی
کوئی تو ہوگا مرے انتظار میں اب بھی
لرزتا ہاتھ بھری آنکھ غم زدہ چہرہ
دکھائی دیتے ہیں مجھ کو غبار میں اب بھی
ہر ایک چیز سے اکتا گیا ہے دل اپنا
وہی کشش ہے مگر حسن یار میں اب بھی
مجھے پتہ ہے وہ کب کی چلی گئی ہوگی
کھڑا ہوا ہوں میں بس کی قطار میں اب بھی
ذرا ٹھہر میں ابھی توڑ پھوڑ ڈالوں گا
یہ کائنات ہے میرے حصار میں اب بھی
زمانہ ہو گیا تم سے ملے ہوئے علویؔ
تمہارا نام ہے یاروں کے یار میں اب بھی

Pukarta hun pada regzar mein ab bhi

Pukarta hun pada regzar mein ab bhi
Koi to hoga mere intezar mein ab bhi
Larazta hath bhari aankh gham zada chehra
Dikhai dete hain mujh ko ghubar mein ab bhi
Har ek cheez se ukta gaya hai dil apna
Wahi kashish hai magar husn-e-yar mein ab bhi
Mujhe pata hai wo kab ki chali gayi hogi
Khada hua hun main bas ki qatar mein ab bhi
Zara thahar main abhi tod phoD dalunga
Ye kainat hai mere hisar mein ab bhi
Zamana ho gaya tum se mile hue Alvi
Tumhara naam hai yaron ke yar mein ab bhi

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام