رات کے منہ پر اجالا چاہیئے
چور کے گھر میں بھی تالا چاہیئے
غم بہت دن مفت کی کھاتا رہا
اب اسے دل سے نکالا چاہیئے
پاؤں میں جوتی نہ ہو تو کچھ نہیں
ہاں مگر ایک آدھ چھالا چاہیئے
ہاتھ پھیلانے سے کچھ ملتا نہیں
بھیک لینے کو پیالہ چاہیئے
یاد ان کی یوں نہ جائے گی اسے
کچھ بہانا کر کے ٹالا چاہیئے
شاعری مانگے ہے پورا آدمی
اب اسے بھی مونچھ والا چاہیئے
محمد علوی
Raat ke munh par ujala chahiye
Chor ke ghar mein bhi taala chahiye
Gham bahut din muft ki khaata raha
Ab use dil se nikala chahiye
Paon mein jooti na ho to kuch nahin
Haan magar ek aadh chhaala chahiye
Haath phailane se kuch milta nahin
Bheek lene ko pyala chahiye
Yaad un ki yun na jayegi use
Kuch bahana kar ke taala chahiye
Shaayari mange hai poora aadmi
Ab use bhi moonchh wala chahiye
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں