محمد علوی — شاعر کی تصویر

رات کے منہ پہ اجالا چاہیئے — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

رات کے منہ پہ اجالا چاہیئے

رات کے منہ پہ اجالا چاہیئے
چور کے گھر میں بھی تالا چاہیئے
غم بہت دن مفت کی کھاتا رہا
اب اسے دل سے نکالا چاہیئے
پاؤں میں جوتی نہ ہو تو کچھ نہیں
ہاں مگر ایک آدھ چھالا چاہیئے
ہاتھ پھیلانے سے کچھ ملتا نہیں
بھیکھ لینے کو پیالہ چاہیئے
یاد ان کی یوں نہ جائے گی اسے
کچھ بہانہ کر کے ٹالا چاہیئے
شاعری مانگے ہے پورا آدمی
اب اسے بھی مونچھ والا چاہیئے

Raat ke munh pe ujala chahiye

Raat ke munh pe ujala chahiye
Chor ke ghar mein bhi tala chahiye
Gham bahut din muft ki khata raha
Ab use dil se nikala chahiye
Paon mein jooti na ho to kuch nahin
Haan magar ek aadh chhala chahiye
Haath phailane se kuch milta nahin
Bheekh lene ko pyala chahiye
Yaad un ki yun na jaegi use
Kuch bahana kar ke tala chahiye
Shaayari mange hai pura aadmi
Ab use bhi moonchh wala chahiye

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام