رات ملی تنہائی ملی اور جام ملا
گھر سے نکلے تو کیا کیا آرام ملا
ایک بہت ہی بوجھل شام کے آتے ہی
سونے دل کو یادوں کا کہرام ملا
وہی محلہ وہی پرانا گھر تھا وہاں
دروازے پر لیکن اور ہی نام ملا
کام کی خاطر دن بھر دوڑ لگاتے ہیں
بیکاری میں آخر کچھ تو کام ملا
ملا نہ علویؔ نام ادب کے دفتر میں
پانچ برس چپ رہنے کا انعام ملا
محمد علوی
Raat mili tanhai mili aur jaam mila
Ghar se nikle to kya kya aaram mila
Ek bahut hi bojhal shaam ke aate hi
Sone dil ko yaadoN ka kohram mila
Wohi mohalla wohi purana ghar tha wahan
Darwaze par lekin aur hi naam mila
Kaam ki khaatir din bhar dauR lagate hain
Bekari mein akhir kuchh to kaam mila
Mila na Alvi naam adab ke daftar mein
Paanch baras chup rehne ka inaam mila
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں