محمد علوی — شاعر کی تصویر

رات پڑے گھر جانا ہے — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

رات پڑے گھر جانا ہے

رات پڑے گھر جانا ہے
صبح تلک مر جانا ہے
جاگ کے پچھتانا ہے بہت
سوتے میں ڈر جانا ہے
جانے سے پہلے ہم نے
شور بہت کر جانا ہے
سارے خون خرابے کو
آنکھوں میں بھر جانا ہے
اندھوں نے بلوایا ہے
بھیس بدل کر جانا ہے
چھ نظمیں جرمانہ تھا
ایک غزل ہرجانہ ہے
لڑکی اچھی ہے علویؔ
نام اس کا مرجانہ ہے

Raat pade ghar jaana hai

Raat pade ghar jaana hai
Subh talak mar jaana hai
Jaag ke pachhtana hai bahut
Sote mein dar jaana hai
Jaane se pehle hum ne
Shor bahut kar jaana hai
Saare khoon kharabe ko
Aankhon mein bhar jaana hai
Andhon ne bulwaya hai
Bhes badal kar jaana hai
Chh nazmen jurmana tha
Ek ghazal harjana hai
Ladki achchhi hai Alvi
Naam us ka marjana hai

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام