پینسٹھ نے روکا اور پوچھا:
''کون ہو کیسے آئے ہو
اچھا آگے جانا ہے
ٹھیک ہے لیکن یہ تو کہو
میرے لیے کیا لائے ہو''
میں نے کہا کیا چاہتے ہو
دانت اکسٹھ نے مار لیے
باسٹھ تیسٹھ اور چوسٹھ نے
سر کے بال اتار لیے
اب دو آنکھیں باقی ہیں
آگے رستہ ٹھیک نہیں
تم چاہو تو بھائی مرے
آدھی بینائی لے لو
چھاسٹھ کا ویزا دے دو
محمد علوی
Painsath ne roka aur poocha:
''Kaun ho kaise aaye ho
Achha aage jaana hai
Theek hai lekin yeh toh kaho
Mere liye kya laaye ho''
Main ne kaha kya chahte ho
Daant iksath ne maar liye
Basath, tirasath aur chausath ne
Sar ke baal utaar liye
Ab do aankhein baqi hain
Aage rasta theek nahin
Tum chaho toh bhai mere
Aadhi beanaai le lo
Chharsath ka visa de do
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں